حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین سید موسیٰ موسوی نے کہا: رہبر شہید (رہ) نے مختلف برسوں کے دوران ہفتۂ وحدت کے موقع پر ایسی گہری اور اہم نصیحتیں اور باتیں بیان فرمائیں جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی قابل توجہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم نے امت مسلمہ کو ’’خیر امت‘‘ قرار دیا ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکیوں اور اقدار کی دعوت دینے اور برائیوں و منفی اقدار کا مقابلہ کرنے کو اسلامی معاشرے کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے قرار دیا ہے۔ ہمارے رہبر شہید (رہ) نے بھی اپنی بابرکت زندگی کے دوران بارہا اس بات پر زور دیا کہ ہمارے دور کے حالات میں سب سے بڑا معروف جس کی طرف معاشرے کو دعوت دی جانی چاہیے، وہ وحدت ہے اور سب سے بڑا اور خطرناک منکر جو معاشرے اور اس کی تمام صلاحیتوں کو تباہ کر سکتا ہے، وہ اختلاف، تفرقہ اور نفاق ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین موسوی نے امام شہید (رہ) کے دورِ قیادت میں اس طرز فکر کے تسلسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جب ہم رہبر شہید (رہ) کے وجود کی برکات اور ان کی بابرکت زندگی کے آثار کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی اہم ترین برکات میں سے ایک وحدت کی ثقافت کو فروغ دینا آتا ہے۔ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ، بانی انقلاب اسلامی نے بھی معاشرے کو وحدت کی دعوت دی اور اختلاف و تفرقہ کے نتائج سے خبردار کیا۔ امام کی ہدایات کی روشنی میں وحدت کے مسئلے کو منظم اور عملی شکل دینے والی اس عظیم شخصیت نے بھی اس حوالے سے وسیع پیمانے پر کوششیں انجام دیں۔

انہوں نے مزید کہا: بدقسمتی سے اسلام دشمنوں کی سازشوں کے باعث وحدت و تقریب مسلم معاشرے سے دور ہو گئی اور امت مسلمہ تباہ کن تفرقوں کا شکار ہو گئی تھی۔ یہی تفرقہ مسلم معاشروں پر استعمار کے تسلط کے اہم عوامل میں سے ایک تھا۔
مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے قائم مقام سیکرٹری جنرل نے کہا: رہبر شہید (رہ) نے اپنی قیادت کے آغاز ہی سے وحدت کو منظم اور مستحکم کرنا اپنے اہم اسٹریٹجک اہداف میں شامل کیا۔ یہ ہدف صرف ایرانی معاشرے تک محدود نہیں تھا بلکہ پوری امت مسلمہ کو اپنے دائرے میں شامل کرتا تھا۔
انہوں نے رہبر شہید (رہ) کی جانب سے امت اسلامی کی تشکیل کی ضرورت پر حالیہ برسوں میں دی جانے والی تاکیدات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے بارہا یہ نورانی پیغام جاری کیا کہ ہمارے معاشرے کی نجات کا واحد راستہ ’’امت واحدہ‘‘ کی تشکیل ہے یعنی شیعہ، سنی اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہنا اور اسلامی اخوت کو زندہ کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس سے بھی اہم مسئلہ امت اسلامی کی تشکیل ہے؛ ایسی امت جو اسلامی تمدن کی بنیاد بن سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ